اردو ادب غزل

کوئی ہنستا ہے یہاں اور کوئی روتا ہے (غزل)واعظہ بشیر

غزل

کوئی ہنستا ہے یہاں اور کوئی روتا ہے
عشق کیا ہے؟ کوئی اب تک نہ سمجھ پایا ہے

سانسوں کی ڈور میں ہے قید زمانہ سارا
موت کے راز میں نے سمجھے ہیں تو جانا ہے

قتل کر کے بھی وہ مامون جہاں میں ہے مگر
ہم کو اک آہ نے دنیا میں فقط مارا ہے

ہائے لا تقنطو بھی یاد نہیں ہم کو رہا
حکمِ قرآن بھلا کے خودی کو کھویا ہے

کوئی تدبیر نہ تھی اور نہ کوئی رہبر تھا
قلبِ مضطر کا مچلنا نہیں کام آیا ہے

عشق یوسف میں فقط ہاتھ کٹے عاشقوں کے
عشقِ احمد نے مقدر ہی بدل ڈالا ہے

اب طبیعت نہیں ملتی ہے کسی سے میری
جھوٹ مجھ کو کبھی واعظؔ نہیں راس آیا ہے
واعظہ

مصنف کے بارے میں

GNK Urdu

ایک تبصرہ چھ