جی این کے پبلی کیشنز

کشمیر نے ہر دور میں اردو زبان و ادب کو قابل فخر ادباء وشعراء اور ناقد ومحقق دئیے

سری نگر۔ 28 اپریل(پریس ریلیز) آج ٹیگورہال سری نگر میں معروف شاعر اطفال ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی کے اعزاز میں شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیراہتمام اجلاس کاانعقادکیاگیا جس میں وادیٔ کشمیر کے ممتاز ادباء اورشعرائے کرام نے حصہ لیا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹرحافظ کرناٹکی نے فرمائی۔

اس موقع پر اپنے استقبالیہ کلمات میں کشمیر کے معروف صحافی وادیب اور مصنف مقبول فیروزی اور ڈاکٹر غلام نبی کمار نے کہا کہ حافظ کرناٹکی صاحب نے ادب اطفال میں گراں قدراضافہ کیاہے۔ ان کی ادبی خدمات کا ہر سو اعتراف کیاجارہاہے۔

مقبول فیروزی نے حافظ کرناٹکی کو ادب اطفال کا شہنشاہ قرار دیتے ہوئے ان کی غزلیات کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔ دیگر ادیبوں اور شعرائے کرام نے بھی حافظ صاحب کی ادبی خدمات کو سراہا۔ اور ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا۔ اس موقع پر فاضل شفیع بٹ کے افسانوی مجموعہ”گردش شب خیال” کا اجراء بھی شاعراطفال ڈاکٹرامجدحسین حافظ کرناٹکی کے بدست عمل میں آیا۔

اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹرامجدحسین حافظ کرناٹکی نے کہاکہ کشمیر صرف ہندوستان ہی کی جنت نہیں ہے یہ پوری دھرتی پر جنت کا ایک حسین قطعہ ہے۔ اس کے فطری حسن میں اس کی تاریخ و تہذیب، اور ثقافت کے رنگ کی حسین آمیزش ہے۔ اس خوب صورت دھرتی نے ان گنت صوفی اور صوفیہ کو جنم دیا۔ کشمیری ادب کی تاریخ جتنی شاندار اور زرخیز ہے کم و بیش کشمیر میں اردو زبان و ادب کی تاریخ بھی اتنی ہی زرخیز اور قابل فخر ہے۔ کشمیر نے ہر دور میں اردو زبان و ادب کو قابل فخر شعراء و ادبا، اور ناقد ومحقق دئیے ہیں اگر کشمیر کے قدیم و جدیدادباء وشعرا کے ناموں کا شمار کیا جائے تو صرف ان کے ناموں کی کتاب تیار ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ کشمیر نے کشمیر کے باہر کے بھی کئی شعراء وادباکو ناموری اور شہرت حاصل کرنے کا بھرپور موقع دیا۔ نام گنوانا اس لیے مناسب نہیں ہے کہ بہت سارے نام چھوٹ جائیں گے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ یہ کشمیر کی خاص خوبی ہے کہ کشمیری ادب کے شانہ بہ شانہ اردو زبان و ادب نے سفر کیا۔ کم کم ہی سہی کشمیر میں اردو ادب اطفال کی طرف بھی توجہ کی گئی۔ تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے مالامال اس سرزمین پر اپنی حاضری کو میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ حضرات گرامی کے درمیان میں اپنی اس حاضری کو اپنی زندگی کاخوشگوارموقع مانتاہوں۔ مجھے امید ہے کہ اردو مرکز والے اب کشمیر کے ادیبو ں کو پہلے سے زیادہ توجہ سے پڑھتے ہوں گے۔ آپ حضرات نے کشمیر کو بہت حدتک اردو کے ایک اہم مرکز کی شکل عطا کردی ہے۔ آپ نے میری جس طرح پذیرائی کی ہے اس کے لیے میں اپنی ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔ اور دل سے دعاگوہوں کہ اللہ اس ارضی جنت کو امن و امان اور علم و ادب کا گہوارہ بنائے۔

حافظ کرناٹکی صاحب نے تمام شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کیا کہ آئندہ اجلاس کا انتظام وہ خود کشمیر میں کریں گے جس میں وادی کے تمام معروف ادباء اور شعرا ء کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے روزنامہ تعمیل ارشاد کے ایڈیٹر ناظم نذیر نے کہا کہ ہم مدتوں سے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے منتظر تھے۔ یہاں امراء ورؤساء کیلئے اتنا شدت سے انتظارنہیں کیاجاتا جتنا تجسس حافظ کرناٹکی صاحب سے ملاقات کیلئے لوگوں کے اندر دیکھاگیا۔ چونکہ حافظ صاحب نے ادب اطفال میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں یہ اسی کااعتراف ہے کہ آج لوگ وادی کے کونے کونے سے ان سے ملاقات اور انہیں سننے کی غرض سے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ہم ان کی آمد پر ان کا بے انتہا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس موقع پر شعری نشست کا اہتمام کیا گیا،شعرائے کرام میں جن خواتین و حضرات نے اپنا کلام پڑھا ان میں روشن آرا روشن، ڈاکٹر محمد ادریس، محمد شفیع شاداب، اشہر اشرف، امداد ساقی، ڈاکٹر فریدہ کول، عاصم اسعدی،ریحانہ کوثر، رضیہ حیدر خان، مجروح کشمیری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

شرکائے اجلاس میں طارق شبنم،شبنم وجہ پاری، الطاف جمیل ندوی، توصیف احمد وانی،رئیس احمد کمار شیخ عاشق رضا اور عرفان ترابی کے اسماء خاص طور پر قابل ذکرہیں۔

اس نشست کی ایک خاص بات یہ رہی کہ اس میں امجد حسین حافظ کرناٹکی کو ان کی مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں جی۔این۔کے پبلی کیشنز کی طرف سے ۲۰۲۵ کا ’’پروفیسر حامدی کاشمیری ایوارڈ‘‘ سے سرفراز کیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

GNK Urdu