تعلیمی خبریں

دینی اور عصری مقابلہ جاتی تعلیمی ادارہ شاہین قائم کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے ایک مثال قائم کی ہے:ڈاکٹر حافظ کرناٹکی


وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم دینی و عصری تعلیم کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہوسکے: ڈاکٹر عبدالقدیر

جی این کے اردو، 17 فروری 2022

آج بہ شب اتوار 13فروری 2022کو ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب بانی و سرپرست شاہین ادارہ جات بیدر کی تشریف آوری کے موقع سے ایک استقبالیہ نشست کا انعقاد کیا گیا اس نشست میں جناب تحسین نواب صاحب،ڈاکٹر حافظ کرناٹکی صاحب،جناب عبدالشکور بھٹکلی،ایچ کے فاؤ نڈیشن کے صدر جناب فیاض احمد صاحب،ایچ کے فاؤ نڈیشن کے سکریٹری جناب انیس الرّحمن صاحب،انجنیر محمد شعیب صاحب،مولانا محمد اظہر الدین ازہر صاحب،ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی،اور بہت سارے دوسرے علماء اور حفاظ نے شرکت کی.آفاق عالم صدیقی نے استقبالیہ تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدلقدیرصاحب کا تعارف پیش کیا اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالی

انہوں نے کہا کہ یہ بات جو بار بار دہرائی جاتی تھی.کہ مسلم بچے اور بچیاں تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں.اور وہ تعلیم کے مرکزی دھارے سے جڑنے کو تیار نہیں ہیں.اس بات کو ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے اپنی محنت،لگن،اور ادارہ شاہین کی تعلیمی اور تدریسی خدمات کے ذریعے غلط ثابت کردیا ہے.انہوں نے مزیدکہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ملک عزیز کے ذہین بچے اور بچیوں کی صلاحیتوں کی حفاظت کرنے والے ایک قابل قدر تعلیمی مدبرہیں.ان کی تعلیمی اور تدریسی خدمات کو کبھی بھلا یا نہیں جاسکے گا.ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب جیسے تعلیمی مشعل بردار سے دوسرے لوگ سبق لیں اور اس ایک چراغ سے سیکڑوں چراغ کے روشن کرنے کی راہ ہموار کریں.

ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم کو عصری اور دینی کے خانے میں بانٹنے سے بڑا نقصان ہواہے.حفاظ کے سینے میں ام الکتاب محفوظ ہوئی ہے.اس لیے ان کا ذہن بہت تیز ہوتا ہے.میرے ادارے سے بہت سارے حفاظ کرام نے تعلیم حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹری کے پیشے میں نام کمایا ہے.ایم.بی.بی ایس اور دوسرے میڈیکل کے شعبوں میں کامیابی حاصل کی ہے.بہت سارے حفاظ نے قانون کی تعلیم حاصل کرکے نام کما یا ہے.انہوں نے مزید کہا کہ قوم و ملّت کی تعلیمی سر بلندی کے لیے اور متحدہ ومشترکہ ہندوستانی نظام تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اور تعلیم کے سیکولر کردار کو مضبوط بنانے کے لیے آج کم سے کم پانچ سو شاہین تعلیمی ادارے کی ضرورت ہے.تعلیم کے میدان میں ملک عزیز کو آگے لے جانے کے لیے ہم سبھی لوگوں کو صاف دل اور کھلے ذہن کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے.جناب تحسین نواب صاحب نے اپنے خطاب میں گلشن زبیدہ کے تعلیمی ماحول اور بچوں کی بہترین اخلاقی تربیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں جب سے یہاں آیا ہوں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی صاحب کی شخصیت کی کرشمہ سازیوں سے بے حد متاثر ہوں.وہ جس قوت و اعتماد اور محبت و خلوص کے ساتھ کام کررہے ہیں اور انہوں نے جس اپنائیت سے ہمیں سرفراز کیا ہے وہ کبھی بھلا یا نہیں جاسکے گا.

اس خاص موقع سے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اپنے ہاتھوں سے ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب اور جناب تحسین نواب صاحب کی گل پوشی و شال پوشی کی.اور اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی خدمات کو دل سے سراہا.انہوں نے کہا کہ تقریباًڈیڑھ صدی پہلے حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ صاحب نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈا ل کر دین کا مضبوط قلعہ تعمیر کیا تھا.جس نے پورے بر صغیر میں دین کی تعلیم کا چراغ گھر گھر میں روشن کردیا.اس صدی میں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے عصری تعلیم اور بالخصوص میڈیکل کی تعلیم وتربیت کے لیے شاہین ادارہ جات قائمکرکے پوری کرکے پوری ملّت کی آنکھیں کھول دیں اور ان کے سپنوں کو سچ کرکے دکھانے کی راہ ہموار کردی.آج سے ایک دو دہائی پہلے عام ہندوستانی اور بالخصوص مسلمان یہ سوچ بھی نہیں پاتے تھے کہ ان کے بچے ڈاکٹر یا انجنیر بنیں گے آج ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی محنت سے ہر مسلمان اپنے بچے اور بچیوں کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھتا ہے اور اس خواب کو پورا کرنے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا ادارہ ہر قدم پر ان کا ساتھ دیتا ہے.دنیا میں بہت سارے لوگ آتے ہیں.اور بڑی بڑی باتیں کرکے چلے جاتے ہیں.مگر ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے کام کرکے دکھایا ہے.اور بتایا ہے کہ کام کس طرح کیا جاتا ہے.میں انہیں دل کی گہرائیوں سے دعا دیتا ہوں کہ وہ تادیر سلامت رہیں.ان کے حوصلے بلند رہیں.تا کہ قوم وملّت کے بچے زندگی کی شاہ راہ پر خود اعتمادی سے آگے بڑھتے رہیں. یہ باوقار تقریب آفاق عالم صدیقی کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہنچی.

.

مصنف کے بارے میں

GNK Urdu

ایک تبصرہ چھ