20/دسمبر/2025…..جی۔این۔کے اردو
وجود باری تعالیٰ پر تاریخی مناظرہ ،اسلام کا سربلند
کانسٹی ٹیوشن کلب دہلی میں علمی و فکری معرکہ، مفتی شمائل ندوی کے منطقی دلائل غالب، جاوید اختر جذباتی سوالات تک محدود،تاریخی فتح پر مفتی یاسرندیم کا مفتی شمائل کی پیشانی کے بوسے کا جذباتی منظر ، للن ٹوپ کے یوٹیوب چینل پر ایک ناظرکا قبول اسلام کا اعلان
نئی دہلی۔ ۲۰؍ دسمبر: (محمد اللہ قیصرکی خصوصی رپورٹ) دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں وجودِ باری تعالیٰ کے موضوع پر منعقد ہونے والا مباحثہ فکری، دینی اور علمی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس مباحثے میں معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر اور ممتاز عالمِ دین مفتی شمائل عبداللہ ندوی کے مابین سنجیدہ اور طویل مکالمہ ہوا، جسے ناظرین اور شرکاء نے ایک اہم فکری سنگِ میل قرار دیا۔مباحثے کے آغاز ہی میں مفتی شمائل ندوی نے گفتگو کا فریم نہایت وضاحت اور اصولیت کے ساتھ طے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وجودِ باری تعالیٰ پر بحث میں تجرباتی (Empirical)، مشاہداتی (Observation) اور وحی (Revelation) پر مبنی دلائل پیش نہیں کیے جائیں گے، کیونکہ خدا مادی اجسام اور طبیعیات کے دائرے میں نہیں آتا۔ ان کے مطابق مافوق الفطرت ذات کے لیے مادی آلات سے استدلال ایسا ہی ہے جیسے کسی مسئلے کے لیے غلط ٹول استعمال کیا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ گفتگو مکمل طور پر عقل و منطق (Logic & Reasoning) کی بنیاد پر ہوگی، جس کے بعد انہوں نے فلسفۂ قدیم کی معروف ’دلیلِ سلمی‘ سمیت متعدد عقلی دلائل پیش کیے۔ حاضرین کے مطابق یہی وہ نکتہ تھا جس پر جاوید اختر سب سے زیادہ دباؤ میں دکھائی دیے۔دلیلِ سلمی کے تحت علت و معلول کے تسلسل پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی شمائل ندوی نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر چیز کسی سبب کی محتاج ہے تو اس سلسلے کو کہیں نہ کہیں رکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اس سلسلے کو خدا پر جا کر روکتے ہیں، جبکہ منکرینِ خدا یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ کہاں رکیں گے۔جاوید اختر نے بارہا یہ تسلیم کیا کہ اس تسلسل کی کوئی نہ کوئی انتہا ہوگی، مگر وہ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے کہ وہ انتہا کیا ہے۔ اس موقع پر مفتی یاسر ندیم الواجدی کی جانب سے کیا گیا سوال بھی بحث کو اسی نکتے پر واپس لے آیا، تاہم جاوید اختر تشفی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔مباحثے کے دوران جاوید اختر نے زیادہ تر جذباتی (Emotional Arguments) کا سہارا لیا۔ دنیا میں ظلم، ناانصافی، عورتوں اور بچوں پر تشدد اور بالخصوص غزہ کے حالات کو بنیاد بنا کر انہوں نے خدا کے وجود اور اس کی رحمت پر سوالات اٹھائے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر خدا موجود ہوتا تو دنیا میں اتنا شر کیوں ہوتا۔مفتی شمائل ندوی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غیر مادی مسئلے پر مادی مثالوں سے استدلال بذاتِ خود غیر منطقی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی اختیار (Free Will) کے تحت ہونے والے ظلم کو خدا کی عدم موجودگی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کے انسداد کے لیے خود انسان کو ذمہ دار بنایا گیا ہے، اور خدائی ہدایات سے انحراف کے نتائج کو خدا کے وجود کے انکار سے جوڑنا فکری مغالطہ ہے۔غزہ کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے دوران مفتی شمائل ندوی نے خدا کی حکمت، مظلوم کے لیے آخرت میں اجر اور ظالم کے احتساب کی بات کی۔ بعض ناظرین کے مطابق یہ جواب علمی اعتبار سے مضبوط تھا، تاہم عمومی اور متنوع سامعین کی موجودگی میں جذباتی پہلو زیادہ مؤثر ہو سکتا تھا۔ اس مرحلے پر سامعین میں سے ایک خاتون کے سوالات نے بحث کو مزید حساس بنا دیا۔جاوید اختر کا یہ دعویٰ بھی زیرِ بحث آیا کہ تمام مذاہب سوال کرنے سے روکتے ہیں۔ اس پر مفتی شمائل ندوی نے واضح کیا کہ اسلام سوال سے نہیں روکتا بلکہ ’فاسئلوا اہل الذکر‘ کے ذریعے سوال کا حکم دیتا ہے اور قرآن بار بار کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ حاضرین کے مطابق یہ نکتہ جاوید اختر کے مذہبی تصور کی سطحیت کو ظاہر کرتا تھا۔بحث کے آخری حصے میں اکثریت (Majority) کے تصور پر مفتی شمائل ندوی کے مضبوط کاؤنٹر نے گفتگو کا رخ بدل دیا۔ اس نکتے پر جاوید اختر کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا اور وہ گفتگو سمیٹتے نظر آئے۔پروگرام کے اختتام پر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس دن کو تاریخی قرار دیا، قبل ازیں انہوں نے مفتی شمائل ندوی کی پیشانی کا بوسہ لیا انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ ’’الأسلام یعلو ولا یُعلى علیہ آج پھر مباحثۂ شاہجہاں پور ہوا‘‘۔یہ منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔نشست میں موجود ریتا چٹرجی، انشمن گائیکواڈ، پروفیسر منیش واجپئی اور دیگر لبرل دانشوروں نے بھی غیر رسمی گفتگو میں اعتراف کیا کہ مفتی شمائل ندوی کے دلائل کے سامنے جاوید اختر کی گفتگو زیادہ تر سطحی اور جذباتی رہی۔ معروف صحافی آدتیہ مینن نے تبصرہ کیا کہ جاوید اختر نے اس بحث کو سنجیدہ علمی ڈیبیٹ کے بجائے غیر رسمی مجلس سمجھ لیا۔للن ٹاپ کے یوٹیوب چینل پر اس مباحثے کے بعد ایک ناظر کے تبصرے نے بھی توجہ حاصل کی، جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ پہلے مسلمان نہیں تھا، مگر اس بحث سے متاثر ہو کر اس نے اسلام قبول کر لیا اور شہادتین ادا کیں۔ اس تبصرے کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔اس مناظرے کو اس اعتبار سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس نے اس سوچ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ مدارس کے طلبہ اور علما جدید فکری مباحث سے ناواقف ہوتے ہیں۔ مفتی شمائل ندوی کی علمی تیاری، مناظرانہ پختگی اور فکری اعتماد کو اس تصور کی واضح تردید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بتادیں کہ پروگرام کی میزبانی للن ٹاپ کے سوربھ دیویدی کررہے تھے انہوں نے انتہائی منظم انداز میں اس تاریخی ڈیبٹ کو انجام تک پہنچایا، پروگرام للن ٹاپ اور مفتی شمائل عبداللہ ندوی کے آفیشیل چینل کے علاوہ دیگر چینلوں اور سوشل میڈیا سائٹ پر لائیو نشر کیا جارہا تھا۔
